Sardar Zubair

ووٹر کو عزت دو

Political

جس محاشرے میں انسانوں کی عزت نہیں ہوتی وہاں ووٹ کو عزت دو کے کھوکلھے نعروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی .اور جہاں انسانوں کی عزت نہیں ہوتی وہاں عزت ہی سب سے زیادہ سستی ہوتی ہے،وہاں عزت کی روز بولی لگتی ہے روز نیلامی ہوتی ہے وہاں تہذیب ، اخلاقی اقدار،اصول ،قانون سسک سسک کے دم توڑ جاتے ہیں جہاں دو وقت کی روٹی کی خاطر ہوا کی بیٹی کی عزت تار تار ہوتی ہو تو وہاں ووٹ کو نہیں ووٹرکو عزت کی ضروت ہوتی ہے. یہاں تھر کی جلتی دھوپ میں گندا پانی پیتی عوام کا ایم این اے اسلام آباد میں اپنے عالیشان بنگلے میں بیٹھ کر منرل واٹر پی پی کر صاف پانی کے پلانٹ لگاتے ہیں مگر عملی طور پرجانور اور انسان ایک ہی کنویں سے پانی پیتے ہیں. بلوچستان کی پسماندگی، قحط سالی پر روز اسلام آباد میں اجلاس ہوتے ہیں مگر غربت ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی،بھتہ خوری ، ڈاکہ زنی ، لوٹ مار ، قتل او غارت کا بازاریہاں سرے عام لگتا ہے. کیا یہ ہے میرا پاکستان اور اس لیے بنا تھا کے یہاں لوگ سڑکوں پر ہسپتالوں میں سسک سسک کر مر جائیں؟ یہاں ہر آدمی بھوکا ہے کسی کو روٹی تو کسی کو اقتدار کی بھوک ہے کوئی دولت کا شیدائی ہے تو کوئی پیٹ کا بھوکا ہے یہاں بوڑا آدمی اپنی ہی پنشن کے حصول کے لیے دس دس گنٹھے لائن میں لگا رہتا ہے ،یہاں روٹی چوری کرنے پر غریب آدمی پر کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں ہزاروں لاکھوں مزدور شام کو خالی ہاتھ واپس آتے ہیں اور اس امید پر بچوں کو سلا دیتے ہیں کے شاید کوئی فرشتہ خواب میں روٹی لے کر آ جائے ، ہسپتال میں ایک ایک بستر پر دس دس مریض ہوتے ہیں غریب آدمی ایک ڈسپرین تک اففورڈ نہیں کرسکتا ،یہاں تھانے سے لے کر عدالت تک غریب کی واٹ لگتی ہے ، یہاں کسی بھی غریب لاچار بےبس آدمی کی بیٹی کو کوئی بھی جاگیر دار اٹھا کر لے جائے یہاں بیروزگار باپ غربت سے تنگ آ کر اپنی ہی اولاد کو زندہ جلا دیتا ہے غربت اور افلاس سے ماری قوم کے لوگ انپے گردے آنکھیں حتہ کہ اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہیں دو وقت کی روٹی پوری نہ ہونے پراور مریض کے علاج کے پیسے نہ ہونے پر لوگ اپنے ہی جگر گوشوں سمیت نہر میں کود جاتے ہیں . ماں اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھ کر بچوں سمیت ریل کی پٹری پر لیٹ جاتی ہے اس پیٹ کی آگ بجانے کے لیے لوگ انپی مہصوم بچیوں کو کوٹھے پر چھوڑ آتے ہیں ، کیا یہ ہے میرا اسلامی جموریہ پاکستان؟ یہاں بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام ہوتا ہے. ١٧ فی صد لوگ اب بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزرنے پرمجبور ہیں تعلیم یہاں نہیں، صحت کی حالت یہاں ابتر ، مہنگائی کا یہاں طوفان ، انصاف یہاں مہنگا ، روزگار یہاں نہیں ، بجلی یہاں نہیں ، پینے کا صاف پانی کسی کو مسیر نہیں.اور سب سے بھڑ کر عزت یہاں نہیں. ڈاکٹر یہاں کا ڈاکو ، پولیس یہاں کی رشوت خور ، وکیل یہاں جھوٹا ، جج یہاں بکتا ، وزیر یہاں بے ایمان مشیر یہاں ناقص ، دکاندار یہاں ملاوٹ  کرتا  ، استاد یہاں ظالم اور سب سے بڑکر ووٹر یہاں بکتا ہے کیوں کے یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں غریب امیر کا الگ الگ دیس ہے غریب کے لیے ایک جبکہ امیر کے لیے دوسرا قانون ہے یا یوں کہ دیجیے کے امیر کے لیے کوئی قانون ہے ہی نہیں. دوسری طرف اس ملک میں ہر آساش ہر سہولت امیر آدمی کے لیے ہے چند خاندان ہی اس ملک کے اصلی وارث لگتے وہی اقتدار کے مالک کل ہیں اور وہی سارے وسائل پر قابض ہیں ان کے لیے قانون سے لے کر ہر چیز ہی الگ ہے یہ پاکستان صرف چند خاندانون کا پاکستان ہے یہ وہی خاندان ہیں جو ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں . یہاں غریب ناکے سے لے کرتھانے تک اورسیشن کورٹ سے سپریم کورٹ تک ذلیل ہوتا ہے جبکہ امیرآدمی ہر قسم کے قانون سے بالا تر ہے نہ اس کے لیے ناکہ نہ تھانہ نہ عدالت نہ قانون حتہ کے ٹریفک سگنل بھی نہیں ، حقیت یہ ہے کہ یہاں ووٹ کی عزت اب بھی ہے مگر ووٹر کی کوئی عزت نہیں

 

11 thoughts on “ووٹر کو عزت دو

  1. A very painful but true picture of the society portrayed in a very simple and easy maaner. All what mentioned in this column is the same which a common man feels but giving words to the feeling is an art which M. Zubair really has. I wish him all the very best for this new juncture of life.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *