Sardar Zubair

یہ منہ اور مسور کی دال

Political

منظور پشتین کا خاندانی پس منظر کیا ہے یہ کب اور کیسے نمودار ہوا ، ملاحظه کیجیے معلومات سو فیصد درست نہیں بھی ہو سکتی کیوں کے یہ انفارمیشن مختلف ذریعے سے حاصل کی گئی ہے منظور پشتین ولد عبدل ودود قوم محسود جنوبی وزیرستان منظور کے والد سکول ماسٹر تھے۔ منظور کے تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ ایک بھائی فوت ہوچکا ہے۔ منظور نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی اور گومل یونیورسٹی سے طب حیوانات میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ منظور پشتین کا ایک بھائی قاری محسن تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم رکن رہا اور خود کش بمبار تیار کرنے والے قاری حسین کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھا۔ قاری محسن آج کل روپوش ہے۔ منظور پشتین خود بھی ٹی ٹی پی کے کافی قریب رہا ہے اسی لیئے شاید ٹی ٹی پی نے “پشتون تحفظ موومنٹ” کی سپورٹ کا اعلان سب سے پہلے کیا تھا۔ پاک فوج کے آپریشنز کے بعد دہشت گرد روپوش ہو گئے یا منتقل ہو گئے اور منظور جیسے خان بہھادر بھی خاموش ہوکر ایک کونے گھس گئے. غالباً 2014 میں منظور نے پشتون تحفظ مومنٹ بنائی. اس کے کچھ ہی عرصۂ بعد اس کےرابطے پاکستان کے بدترین دشمن محمود اچکزئی کے ساتھ قائم ہوگئے۔ 13جنوری کو نقیب اللہ کا کراچی میں قتل ہوا جس کا الزام ایس ایس پی راو انور پر لگا ( جو شاید ٹھیک بھی ہو ) نقیب اللہ کے واقعہ کے بعد اچانک منظور پشتین کی جماعت ابھر کر سامنے آئی. اور ان کے مطالبات راؤ انوار کی گرفتاری سے شروع کر نہایت تیزی سے آزاد پشتونستان کے نعروں تک پہنچ گئے۔ افغانستان نے بلواسطہ اور انڈیا نے اندر خانے پوری شدت سے ان کی سپورٹ کرنی شروع کر دی۔ وائس آف امریکہ سی این این اور بی بی سی ان کو مسلسل کوریج دھےرہے ہیں . پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف جعلی اور نفرت انگیز مواد پبلش کرنا شروع کر دیا اور پاک فوج پر الزامات کی بارش کردی۔ پی ٹی ایم نے پشتونوں کو اس بات پر اکسایا کے کہ تمھارے حقوق کے لیےحکومت یا فوج ہم سے مذاکرات نہیں کر رہی۔ لیکن جب پاک فوج نے مزاکرات کی پیش کش کی تو پی ٹی ایم نے انکار کر دیا یا شاید ایک ادھ بار بات ہوئی بھی ہے .چیک پوسٹوں پر رویہ بہتر کرنے کا مطالبہ بھی بڑھتے بڑھتے بالاآخر فاٹا سے پاک فوج کے انخلاء تک پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا پر متحرک بدنام زمانہ سو کالڈ انسانی حقوق کے ضامن وقاص گورایا، ، سلمان حیدر اور ناصر جبران حسین حقانی جیسے لوگوں نے بھی انکی تحریک کو سپورٹ کرنا شروع کر دی ہے . اب یہ تحریک پاکستان میں جگہ جگہ جلسے کر رہی ہے اور اپنے حقوق کا رونا رو رہی ہے.انکے جلسوں میں بڑی تحداد پاکستان مخالف تنظیموں کے لوگوں کی ہوتی ہے. ان کے جلسوں میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر پابندی لگا دی گئی تاہم افغانستان کا جھنڈا وہاں اکثر نظرآتا ہے اور عوام بھی افغانی ہی ہوتی ہے. اب اس کے حامی پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ، انڈیا اور امریکہ سے مدد طلب کر رہے ہیں اسرائیل آرمی زندہ باد کے نہرے لگا رہے ہیں. منظور پشتین کو پشتونوں کی اکثریت ایک فتنہ سمجھ رہی ہے جو دوبارہ ان کا خون بہانے کے درپے ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر اس فتنے کو بروقت نہ کچلا گیا تو یہ ریاست پاکستان کے لیے ایک بڑا مسلہ بن سکتا ہے ، منظور پشتین ایک اور ملہ فضل اللہ بن سکتا ہے.اور خون کی ہولی جو حال ہی میں بند ہوئی ہے دوبارہ کھیلی جا سکتی ہے

 

3 thoughts on “یہ منہ اور مسور کی دال

  1. Coping something from Facebook and posting it is not journalism… Manzoor has no brother or cousin named “Qari Mohsin”! He studied from APS, his grand father was among the tribal lashkar which entered Kashmir to help the newly created state!

    1. Mr. Yaqub what is your source? as i mentioned in start as this information has been collected from different channels and expect the lille margin of errors.Now i am expecting from you to share his academic career that he has studied from APS.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *