Sardar Zubair

سیاسی شعور

Political

کل میں راولپنڈی سے اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا ، میں نے ایک ٹیکسی سروس بک کی اور پھر کچھ ہی دیر میں ٹیکسی آ کر میرے پاس رکی رسمی دعا سلام کے بعد میں اپنے موبائل کے ساتھ مصروف ہو گیا. اور اتنی دیر میں کار ایک سگنل پر رک گئی بند سگنل پر لوگ مسلسل ہارن بجا رہے تھے. کپٹن نے کہا سر بند سگنل پر لوگ ہارن کیوں بجاتے ہیں ایسا دنیا میں شاید کہیں نہ ہوتا ہو. خیر ہماری بات سیاست کی طرف چل نکلی تو میں نے کپٹن سے پوچھا ووٹ کس کو دیا تھا، کہنے لگا پچھلی دفعہ تو نہیں دیا تھا لکن اس دفعہ عمران خان کو دینا ہے. میں نے اسکو ٹٹلوننے کے لیئے کہا سر جی عمران خان نے بھی کیا کر لینا ہے بس دھرنے دینے ہیں اور اسنے کے پی کے میں آخر پانچ سال میں کیا بھی کیا ہے ، اوپر سے اب زرداری صاحب کہ رہے ہیں کے ہمیں ضرورت پڑی تو عمران خان سے اتحاد بھی کر لیں گے. میری بات وہ بڑی غور سے سنتا رہا جسے میں بلکل فضول بات کر رہا ہوں. وہ مسکرایا اور کہا سر زرداری یا نواز شریف کو ووٹ دینے میں بھی کوئی مسلہ نہیں تھا پہلے 35 سال سے آخران کو ہی تو دیا ہے اور پھر اگر وہ آج یہ فیصلہ کر لیں کے لوٹی ہوئی ساری دولت واپس لے آئے گے، ساری جائیداد پاکستان منتقل کر لیں گے اور اپنے بچوں کا بزنس پاکستان شفٹ کر دیں گے. نواز شریف کو الله پاک نے بڑا گولڈن موقع دیا تھا ، اس دفعہ لوٹ مار کے بجاے پاکستان کی ترقی اور بہتری کے لیئے کام کرتا، سارے وزیروں مشیروں سے کہتا اس دفعہ پاکستان کو قائد کا پاکستان بنانا ہے روڈ اور پل سے آگے کی سوچتے تو عمران خان کی سیاست اپنی موت آپ مر جاتی. اسکی باتیں سن کے مجھے لگا کہ اگر عمران خان نہ ہوتا تو تو آج اس کپٹن نے یقینن مجھ سے کسی فلم یا ڈرامے کی بات کرنی تھی. یہ قوم عمران خان کی قیامت تک مقروض رہے گی کے اسنے اس قوم کو سیاسی شعور دیا کہ آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کے اسکے کیا حقوق ہیں. میری دعا ہے کہ الله پاک اس قوم کے شعور کو اگست نومبر تک زندہ رکھے

 

2 thoughts on “سیاسی شعور

  1. Very nice collection of words, writer knows the difference between dialouge & debate.
    To aware the masses is very important

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *