Sardar Zubair

اکیسویں صدی کا جاہل

Political

کسی نے کیا خوب کہا تھا کے اکیسویں صدی کا جاہل وہ نہیں ہو گا جو پڑھ لکھ نہیں سکتا ہو گا بلکہ وہ ہو گا جو پڑھا لکھا ہونے کے باوجود سمجھنے سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہو گا. نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان نے ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز کر دیا ہے ، میں کبی بھی نواز شریف کا ووٹر سپپورٹر نہیں رہا لیکن میں پھر بھی سمجتا تھا کے کم از کم پانچ سال پورے کر لینے چاہیے تاکہ کوئی جواز باقی نہ رہے کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا . تاریخ گواہ ہے کہ نواز شریف کی حکو مت ہمیشہ غلط مشیروں ، ناقص حکمت عملی اور اداروں کے ٹکراؤ سے ہی مشکل کا شکار ہوئی ہے .نواز شریف ہمشہ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پے گامزن رہے ہیں، چاہے وہ آرمی ہویا عدلیہ اس حکو مت نے جیسے تیسے اپنی مدت پوری کر لی ہے اور اس دورانیہ میں نوں لیگ کے ایک عام ورکر سے لے کر وزیروں مشیروں تک لوگ یہ جان گئے ہیں کے نواز شریف میں نہیں تو کچھ بھی نہیں کے اصول پر کام کر رہے ہیں. بڑی تعداد نوں لیگ کو چھوڑ بھی گئی ہے ابھی کچھ تیار بیٹھے ہیں .یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ کچھ دن پہلے جو نواز شریف نے مجیب ارحمان بننے کی دھمکی دی تھی اب وہ مکمل طور پر اس پر عمل پیرا ہیں اور کچھ لوگ سمجتھے ہیں کہ اب انہیں اس لڑائی کا حصّہ نہیں بننا چاہیے . مگر مجھے حیرت ان پڑے لکھے لوگوں خاص کر نوجوانوں پر ہے جو اب بھی سمجتھے ہیں کہ نواز شریف بےقصور ہے یا اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے . ایسے لوگ آپ سے بلا وجہ بحث کریں گے ، نواز شریف کی بیوقوفی کو ڈیفنڈ کریں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ یا عمران خان کی ایما پر ہو رہا ہے. ایسے لوگوں کا اپنا کوئی ہوم ورک نہیں ہوتا تاریخ سے نابلد بس کہیں بھی نائی کی دکان پر کوئی بات سن لیں گے اور پھر اپنے آپ کو حامد میر سمجھ لیں گے. جب کوئی مواد نہیں ہو گا تو مڑ تھر کر عمران خان نے کے پی کے میں کیا کر لیا یا عمران خان نے شادی کیوں کی پر آ جائیں گے . یا پھر یہ کہ عمران خان نے بھی لوٹے شامل کر لیے ہیں آخری حربہ ہو گا. او خدا کے بندو عقل کو ہاتھ مارو، عمران خان نے کبھی ملک کے خلاف سازش نہیں کی، کبھی مجیب ارحمان بننے کی دھمکی نہیں دی، کبھی سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کیا، کبھی مودی کو آم نہیں بیجے ، کبھی ساڑیاں نہیں بیجیں، کبھی یہ نہیں کہا کار گل میں ہماری فوج نے آپکی پیٹھ میں چھرا گونپا.کبھی یہ نہیں کہا کہ فوجی اس لیے کیپ نہیں پہنتا کے مجھے سیلوٹ نہ کرنا پڑے. عمران خان سے لاکھ اختلاف سہی وہ ملک کے ساتھ مخلص ہے، وہ پیسے کا بھوکا نہیں ہے ، وہ اقتدار کا پیاسا نہیں ہے. کبھی اقتدار میں نہیں رہا پھر بھی ملک کے لیئے جان ماری ہے. اسکا پیسا ملک میں ہے ، وہ عام آدمی کی جنگ لڑ رہا ہے وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیئے مارا مارا پھر رہا ہے. میری ایسے بھائیوں سے گزارش ہے کہ ملک ہے تو سیاست ہے ملک ہے تو سیاسی پارٹی ہے.خدا کا واسطہ ملک کے بارے میں سوچو اور جدید جہالت سے باھر نکل آؤ، یہ نہ ثابت کرو کے آپ جدی پشتی غلام ابن غلام ہیں اور رہیں گے .
الله آپکو عقل سلیم عطا کرے. (امین )

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *