Sardar Zubair

اخلاقی روایات

Political

حاجی نور بخش صاحب اپنا چوتھا عمرہ کر کے کل واپس پنچے تو سوچا حاجی صاحب سے مل آتے ہیں شاید کوئی واعظ ہی کر دیں گے اور ہم گنہگاروں کو سنبھلنے کا موقع مل جائے گا. حاجی صاحب گزشتہ دس سالوں سے میڈیکل اسٹورز چلا رہے ہیں اور اب تو کاروبار خوب ترقی بھی کر گیا ہے.  خیر ان سے ملنے انکی دکان پر پنچے تو حاجی صاحب نے خوب گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھر وہی کاروبار میں مندی کا رونا شروع کر دیا ، دیکھو میاں کاروبار آج کل چل نہیں رہا اوپر سے گاہک بھی الله مہاف کرے ایسے ہیں کے سالے یہ بھی نہیں سوچتے کے مرنا بھی ہے. ابھی کل ایک گاہک آیا دوائیاں لیں دو ہزار کا بل بنا اور پانچ ہزار کا نوٹ دیا بعد میں پتا چلا کے حرام خور جہلی نوٹ دے گیا میرے منہ سے بیساختہ نکلا او بھینس کی دم پھر ؟؟ بولے پھر کیا گالیاں دیں اسکو ماں بہن کی، پتا نہیں کون تھا پہلے کبھی آیا بھی نہیں. وہ تو شکر ہے میں نے دوائیاں بھی جہلی دیں تھی ورنہ میں تو مارا جاتا. میں نے پوچھا پھر وہ جہلی نوٹ کا کیا کیا ؟ بولے کرنا کیا تھا ، بچے کی فیس ہفتے سے جمع کروانے کا سوچ رہا تھا پھر وہ نوٹ اسکول والوں کو دے دیا. اسکول والوں کے ساتھ اچھی دوا سلام ہے بیٹا فیل ہو گیا تھا آپکو تو پتا ہی ہے نشہ کرتا ہے، اسکول جاتا نہیں، اسکول کے پرنسیپل کو مکے کی کھجوریں دیں بس پاس کر دیا. پھر کرسی کے نیچے سے ایک شربت —- کی بوتل نکالی غٹ غٹ کر پی گئے اور سات سیکنڈ کا ڈکار لے کر دونوں  ہاتھ  منہ پر ملتے ہوے بولے
شکر الحمداللہ

By
Sardar Zubair
 

1 thought on “اخلاقی روایات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *