Sardar Zubair

میچورٹی یا یوٹرن

Political

پاکستان تحریک انصاف نے کے پی اور پنجاب میں خود ہی نگران وزیر اعلی کے نام دیے اور پھرمکر گئی . افسوس کا مقام ہے کے ملک کی سب سے بڑی جماعت کا دعوه کرنے والی جماعت کے اندر فیصلہ سازی کی قوت کمزور ہے. ایسے فیصلوں سے جماعت کے اندر اور باھر بہت سے لوگوں کو موقعہ مل جاتا ہے کہ آپ پر کھل کر تنقید کریں. پنجاب میں ناصر کھوسہ کا انتخاب انتہائی غیر سنجیدہ فیصلہ تھا کیوں کے ناصر کھوسہ کا شریف فیملی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا اوراس میں رتی برابر شک نہیں کہ ناصر کھوسہ صاحب نہ صرف جانبدار ہیں بلکہ بدعنوان بھی ہیں. حال ہی میں نییب نے انہیں راونڈ روڈ کیس میں طلب بھی کیا تھا اور وہ اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں .پنجاب میں اپوزیشن لیڈر جناب محمود ال رشید کا کردار بھی مشکوک ہے کیوں کے اپوزیشن لیڈر کے طور پر اِنوں نے کوئی تلوار نہیں ماری پچھلے پانچ سال میں .بحر حل دیر اید درست اید میں سمجتا ہوں بعد کے رونے سے بہتر تھا کہ پہلے ہی اس فیصلے پر نظر سنی کر لینی چاہیے تھی .پاکستن تحریک انصاف نے میچورٹی کا ثبوت دیا ہے ورنہ پنجاب میں ہار انکا مقدر بن چکی تھی .حکومت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پنجاب میں بھاری اکسرییت سے جیتا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نگران سیٹ اپ بلکل غیر جانبدار ہونا چاہیے.قانونی مہایرین کے مطابق فیصلہ تبدیل کیا جا سکتا ہے کیوں کے آہین میں کہیں نہیں لکھا کہ نام فائنل ہونے کے بعد تبدیل نہیں کیا جا سکتا .ابّ کہی بار فیصلہ کرنے سے پہلے کسی سمجدار دانشمند آدمی سے پارٹی کے اندر مشورہ کر لینا چاہیے ایسا نہ ہو بعد میں خیال آے کہ یہ تو رانا ثنا اللہ کا بہنوئی ہے یا عابد شیر کا والد. تنظیم سازی اور فیصلہ سازی میں بہت کمزوریاں ہیں جن کو بہتر کرنے کی فوری ضرورت ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *