Water Crisis in Pakistan

پانی پاکستان کا اہم ترین مسئلہ

Urdu

قیام پاکستان برصغیر کی ایسی تقسیم کی صورت، عمل میں لایا گیا جہاں آزادی حاصل کرنے والی ریاستوں کے مابین قدرتی اور انسانی وسائل کی بانٹ لازمی تھی۔ وراثت میں ملی دشمنی نے پاکستان کو روز اول سے ہی روایتی خطرات کا سامنا کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے پر مجبور کئے رکھا۔ آزادی سے اب تک کے سفر میں روایتی خطرات سے نمٹتے ہوئے ریاستی اداروں اور ملک کے مقتدر حلقوں نے غیر روایتی خطرات جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلی ، قدرتی آفات ، عالمی حدت میں اضافے اور معا شی عدم استحکام کو نظرانداز کئے رکھا ۔ لیکن پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے اہم اور سنگین مسئلے نے پاکستان کی سالمیت کو خطرے سے دوچار کرتے ہوئے سنجیدہ طبقے کی توجہ حاصل کی ہے ۔ ملک کے ایک سرکاری ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2025 تک ملک پانی کی شدید قلت سے دوچار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 1990 میں پانی کے وسائل پر دباؤ پڑنا شروع ہوا اور 2005 سے ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔امکان ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آئندہ چند سالوں میں ملک میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ حکام کے مطابق2016 ء میں فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب فٹ ہے جبکہ 1951 میں یہ مقدار پانچ ہزار مکعب فٹ سے زیادہ تھی۔ بظاہر پانی کی کمی کی وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی ہے۔ ڈاکٹر غلام رسول ڈائرکٹر محمکہ موسمیات کے مطابق ، موسمیاتی تبدیلی کے منظر نامے بتا رہے ہیں کہ اگلے 30 سالوں میں درجہ حرارت بڑھے گا اور مون سون میں اضافہ ہو گا۔ سردیوں میں برفباری کی نسبت، بارش کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہے۔اس اعتبار سے پاکستان کے موسمیاتی نظاموں سے منسلک کُل آبی وسائل کم نہیں ہوںگے مگر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے اور نئے تعمیر ہونے والے منصوبےوسیع پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لہذا بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین بحران کا باعث ہوگا۔ ملک کے دو بڑے ڈیم صرف ایک ماہ تک کے لیے پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں آبی وسائل کو ذخیرہ کرنے کے لئے ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کہ مون سون کے علاقوں میں بارشوں میں اضافے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پانی ذخیرہ کیا جائے تاکہ وہ خشک موسم میں آب پاشی میں کام آئے اور اس کے ساتھ ساتھ سیلاب بھی کنٹرول ہو اور اس سے توانائی بھی پیدا ہو۔ لیکن نئے تعمیر ہونے والے بھاشا اور داسو جیسے بڑے ڈیم مون سون رینج سے باہر تعمیر ہورہے ہیں اور ان کا آبی زریعہ گلیشئرز کا پگھلتا ہوا پانی ہے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر لے تو اسے آئندہ سالوں میں پانی کی قلت کا سامنا نہیں ہو گا۔ آبی وسائل امور کے ماہر اظہر لاشاری نے کہا کہ ملک میں پانی کی قلت کی اصل وجہ پانی کے استعمال کے طریقے ہیں۔ جب دریاؤں کے بالائی علاقوں کے لوگ پانی زیادہ استعمال کر لیتے ہیں تو زیریں علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ لہذا پانی کی کمی کی وجہ اس کے استعمال میں بدانتظامی ہے اور یہ مسئلہ انسانوں کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔پانی کی قلت کو ختم کرنے اور دستیاب وسائل کو ذخیرہ کرکے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو بروقت حکمت عملی کے تحت ہر علاقے میں مقامی سطح پر لوگوں کی رہنمائی لیتے ہوئے اس مسئلے کا حل یقینی بنانا ہوگا۔

By
Shozab Askari
 

2 thoughts on “پانی پاکستان کا اہم ترین مسئلہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *