Sardar Zubair

کسی عاجز کی درخواست

Political

عمران خان کی وکٹوری سپیچ سنی ، دل باغ باغ ہو گیا، آنکھوں سے آنسوں کی برسات امنڈ آلئ تقریر سے ایک درد اٹھتا محسوس ہوا ، اپنوں کا درد چھلکتا محسوس ہوا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا ایک وزیر اعظم سے زیادہ کسی عاجز کی تقریر لگ رہی تھی کسی درد مند کی عاجزانہ اپیل لگ رہی تھی زندگی میں پہلی دفعہ کسی وزیر اعظم کی ایسی تقریر سنی تو پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہوا ایک آس، ایک امید ایک روشنی جاگی کہ اب اچھے دن بھی آ ئے گے کیسا لگے گا ؟ جب ایک وزیر اعظم تین گاڑیوں کے پروٹوکول میں جائے گا، کوئی سگنل بند نہیں گا ہٹو بچو کا شور نہیں ھو گا اور وزیر اعظم ہاؤس ایک ہوٹل یا یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہوا گا؟ کبھی کبھی جب کنیڈا اور برطانیہ کے وزیر اعظم کو عوام کے بیچ دیکھتنے، گالف کهیلتنے دیکھتنے تھے تو دل کرتا تھا کاش کبھی ایسا پاکستان میں بھی ہو وہ امید آخر برآئی اور الله پاک نے ایسا ہیرا ہمیں نصیب کیا جس کے جسم پر پندرہ سو کا سوٹ اور ہزار کی چپل ہے.جو کہتا ہے مجھے اس الشان محل میں رهتے ہوے شرم اتی ہے اب کسی پاکستانی کو گرین پاسپورٹ کی وجہ سے الگ لائن میں نہیں لگنا پڑے گا، اپکا وزیر اعظم امریکا کے ائیرپورٹ پے ننگا نہیں ہو گا عالمی میعار کی تعلیم، صحت ،اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے لیول کی پولیس ملے گی، تھانہ کچہری ایک وحشت ایک خوف کا منظر پیش نہیں کر رہا ہو گا عمران خان ایک کرشماتی لیڈر ہیں اور امین قوی امید ہے کہ وہ ایک عام آدمی کے بارے میں سوچیں گے اور الله کے فضل سے چند ہی سالوں میں آپکو ایک نیا ایک عظیم پاکستان نظر اے گا

 

1 thought on “کسی عاجز کی درخواست

  1. In shaa Allah, we all wish for a better and new Pakistan, we must think positive to have positive, unfortunately at the moment old practices are followed to form new Pakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *