Sardar Zubair

شیر سے شیری رحمان تک

Political

وقت کتنا ظالم ہے نہ جانے کب کون کہاں کس سے قدموں میں گر جائے، مھجے زرداری صاحب کا وہ فقرہ نہیں بھولتا جب انہوں نے انتہائی تکبرانہ لہجے میں حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوے کہا تھا کہ انکو سوچنا چاہیے کہ کہیں انکو میرے قدموں میں نہ گرنا پڑے جیسے سیف ارحمان کو گرنا پڑا تھا اتحاد براے صاف و شفاف انتخابات کے مجمے کو دیکھ کے میں یہ ما ننے پر مجبور ہو گیا کہ زرداری واقعی ایک چالاک ، مکار آدمی ہے. یہ شہباز شریف جو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرتا تھا آج شیری رحمان کے پیچھے ہاتھ باند کہ کھڑا ہوتا ہے. زرداری نے بہت مکارانہ چال چلی ہے قومی اسمبلی میں نوں لیگ کو سپورٹ کر کہ سینٹ کا اپنا چیرمین لگواے گا اور بس پھر نوں لیگ کے ساتھ دوبارہ ہاتھ کیوں کہ زرداری کو اور کیا چاہیے ؟ سندھ میں ڈبل نشستیں جیت لی ہیں ، انکا مقصد پورا ہو چکا ہے اب کچھ ہی عرصے بعد وہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنا شروع کر دیں گے اور نوں لیگ پھر ایک بار پھر بند گلی میں چلی جائے گی اور چلی گئی ہے بظاھر پیپلز پارٹی کو کوئی مسلہ نہیں ہے اور وہ دھاندلی پر رولا بھی نہیں ڈال رہے کیوں کہ انکو پتا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہوتی تو انکو ٢٠ سے زیادہ سیٹس کبھی نہ ملتی اب پیپلز پارٹی کا ایک ہی مقصد لگ رہا ہے کہ نوں لیگ کو ٹکا کر ذلیل کیا جائے اور اپنا مقصد حل کر کے انکو ہمشہ کی طرح لات مار دی جائے اور مجھے اسمیں کوئی شک بھی نہیں کہ آیندہ آنے والے کچھ دنوں میں یہی کچھ ہو گا کیوں کے پیپلز پارٹی کبھی بھی وفاق سے کبھی بھی پنگا نہیں لے گی پیوپلز پارٹی کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ نوں لیگ کے ارسطو اور نیوٹن کو شیری رحمان کے پیچھے کھڑا رکھ کہ انکو انکی اوقات یاد دلائی جائے مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے جب احسن اقبال، غلام بلوور جیسے لوگ شیری رحمان کے دوپٹے کے سائے میں ایک ہوتے دکھائی دیتے ہیں پیر صاحب پکارا نے سہی فرمایا تھا کہ نواز شریف طاقت میں ہو تو گربیان پکڑتا ہے اور مشکل میں ہو تو پاؤں شہباز شریف صاحب نے ایک ماہ کے اندر اندر اپنی دانشوری کا جنازہ نکال دیا ہے اور پارٹی کی رہی سہی عزت بھی پپولز پارٹی کے آگے جھک کے ختم کر دی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسکا انکو کوئی فائدہ بھی نہیں ہو رہا بیشک عزت اور ذلت الله کے ہاتھ میں ہے الله پاک ایسی ذلت سے محفوظ رکھے امین

 

1 thought on “شیر سے شیری رحمان تک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *