Sardar Zubair

مولانا اور سپاہی گنڈا پور

Political

پاکستانی سیاستدان کا نام سنتے ہی جو پہلا خیال ایک عام آدمی کے ذہن میں آتا ہے وہ کرپٹ ، بےایمان، چور بدمعاش بدتمیز جیسا خیال ہی ہوتا ہے کیوں کہ سیاست کو جتنا بدنام ہمارے سیاستدانوں نے کیا ہے شاید دنیا میں کہیں نہ ہو پاکستان میں سیاست ایک پیشہ کی طرح استمال ہوتی آ رہی ہے اور سب سے زیادہ مفید پیشہ سمجھی جاتی ہے یہی تو وہ وجہہ ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں نے موروثیت کو جنم دیا ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا اور پھر نہ ختم ہونے والا سلسلہ مولانا فضل رحمان پاکستانی سیاست کا وہ سیاہ کردار ہے جس سے تقریبا ہر آدمی ہی نفرت کرتا ہے سوا چند سو کے، مولانا نے نہ صرف ایک ساتھ سیاست اور مذہب کو بد نام کیا بلکہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی بھی ہوئی ہے موصوف کا خاندان روزے اول سے ہی پاکستان بننے کے خلاف تھا اور جب الله کے فضل سے پاکستان بن گیا تو توڑنے اور غیر مستحکم کرنے کے لیے ہر حربہ استمال کیا اور مولوی صاحب نے ایک دن خود ٹی وی پر فرمایا ( شکر ہے میرا خاندان پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھا ) خیر مولانا پچھلے پانچ ادوار میں کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصّہ رہے ہیں اور انکو حرام کی اسی لت پڑی ہے کہ اب انکو کسی اور کا جیتنا اسمبلی میں جانا ہضم نہیں ہو رہا اور سرکاری رہاش گاہ خالی کرنا تو گویا ایسا ہے جیسا اپنا پچھوارہ چھوڑ کے جا رہے ہوں جب سے مولوی کو خان کے ایک سپائی نے شکست فاش سے دو چار کیا ہے تو مولوی بےضمیر ایک آوارہ پاگل کی طرح اداروں پر حملہ آور ہے ، کھلے عام پاکستانی اداروں خاص کر پاک فوج کو للکار رہا ہے ، اسے لگتا ہے کہ اگر میں نہیں جیتا تو مطلب کوئی نہیں جیتا ، ایک ایسا آدمی جس کو کرسی سے چپکنے کی عادت پر گئی ہو بھلا وہ کیسے بینڈے پر بیٹھ سکتا ہے ، چہرے کے تاثرات بتا رہے ہوتے ہیں جیسے تتے توے پر بیٹھا ہوا ہے موٹاپا صاحب کے موزے سے لے کر حج تک کے سارے اخراجات حکومت برداشت کرتی تھی اور موصوف کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے ناطے سے ایک فیڈرل منسٹر کے سارے بینیفٹس لے رہے تھے ، اب جب کہ حال ایک طلاق یافتہ عورت کی طرح ہو گیا ہے تو بھائی باولہ ہو گیا ہے ایسے لوگوں کے سامنے اگر فوج کا ایک نائب صوبیدار بھی آ جائے تو اپنی سوھاگ رات کے سارے قصے سنا دیتے ہیں شاید مولانا کا واسطہ نہیں پڑا ابھی مولوی صاحب جو مرضی کر لیں اب پکا اسمبلی میں جانا ہوا پرانا اب آپ ڈی ای خان میں کھولیں مسلوں کی دکان اور ساتھ سنیں ( عمران خان دے جلسے وچ میرا نچنے نوں جی کردہ یے ) قوم کو جتنی خوشی عمران خان کے وزیر اعظم بننے کی ہے اسے دگنی مولانا کے ہارنے کی ہے مولانا صاحب تباہ دے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *