Sardar Zubair

ایسے بچے گا پاکستان

Political

تیس دسمبر دو ہزارہ سترہ کو بھائی کی کال آئی ، کہا بھائی دوست کے ساتھ ذرا باہر آیا ہوں تھوڑی دیر میں بات کرتا ہوں اکتیس دسمبر کو اتوار تھا حسب معمول تھوڑا لیٹ جاگا سوچا فرش ہو کے بھائی سے بات کرتا ہو لگ بگ ایک بج کر انتیس منٹ پر کال آئی .  کال رسیو کی تو دوسری طرف سے آواز آئی بیٹا کرنل ابرار بات کر رہا ہوں اپ کے بھائی ( جمال صاحب) شہید ہو گئے ہیں جمال فرضی یا سرکاری نام تھا سوچا کوئی رانگ کال آ گئی ہے ، پوچھا سر جمال صاحب ؟؟ بولے جی ہاں آپ کے بھائی ، بھائی ایک حساس ادارے کا افسر تھا جو بلوچستان کے شہر زوب میں تہینیات تھا زبان سے نکلا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون اور ایک دم سے خیال بارہ تیرہ سالہ بچی کی طرف گیا جو اکیلی بھائی کے ساتھ رہ رہی تھی دل پر پتھر رکھ کر گھر کے نمبر پر کال کی تو بچی نے کال رسیو کی اور اسکی درد بھری آواز سینہ چیر گئی ، چاچو ابو شہید ہو گئے ہیں آج بھی بھائی کی تصویروں کے ساتھ وہ نیا سوٹ بھی لٹک رہا ہے جو ایک جاننے والی درزی سے یہ کہ کر سلایا تھا کہ ذرا اچھا سا بنانا بھائی نے آگے پیچھے میٹنگز میں جانا ہوتا ہے یہ ملک ہماری جان ہے میرے جیسے ہزاروں بھائیوں کے بھائی اس ملک کے لیے جان دے گئے تانکہ ہم لوگ خوشی سے عید اور چودہ اگست منا سکیں بہادر اور زندھ قومیں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں اور اپنے بہادر سپوتوں کی قدر عزت کرتی ہیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *