ilm by Ali kamdar

علم

Urdu

جب ہم بات علم کی کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں وہ کتب آجاتی ہیں جن کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں یا جو کتب زیرِ مطالعہ ہوں۔ دورِ جدید میں مطالعے کا فقدان ہونے کے باعث جواں نسل کی نظر میں علم کا مرکز و محور کمپیوٹر،انٹرنیٹ یا سوفٹ ویئر کی دنیا ہے۔ جبکہ ہمارے معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ اپنے لیے ٹیلیویژن پر بتائے جانے والی خبروں اور معلومات کو اپنے لیے مکمل علم گردانتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں ہمارے معاشرے کے افراد کی توجہ اپنے پیشہ ورانہ شعبہ جات سے متعلق معلومات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس طرح کے افراد نے ذرائع علم کو علم سمجھ کر اپنے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچ لیا ہے کہ جس سے نہ تو وہ باہر جھانکتا ہے اور نہ ہی خود ساختہ دائرے کے باہرسے کچھ حاصل کرنے کو تیار ہے۔ ہمارے اس طرح کے روییّ نے ایک مستقل مزاج کی شکل اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے شدت پسندی اور خود غرضی نے طبیعتوں کو مغلوب کرلیا ہے ، نتیجتاً خود سری ، بد مزاجی ، گھمنڈ اور شیخی نے رشتوں کے گلستان میں زہریلے کانٹوں کی فصل پیدا کردی ہے۔

کیا علامہ اقبال نے ہمارے اسی کردار کو ایک آزاد مسلم ریاست دینے کا خواب دیکھا تھا۔ کیا قائد اعظم نے اسی قوم کے نوجوانوں کو مستقبل کا معمار کہا تھا،کیامسلم معاشرہ ایسا ہوتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں؟ایک بات انتہائی افسوس بلکہ دکھ کا باعث ہے کہ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو اکثر گھرانوں میں ظاہری دینداری اور لبادہ کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آتا ہے مگر محبت و اخو ّت اور ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ بہر حال ہم بات علم کی کر رہے تھے مگر مذکور بالا صورت ِ حال کی نشاندہی کا مقصد یہی ہے کہ علم کسی بھی معاشرے کی ثقافت کو نکھار کر اعلیٰ تہذیب میں ڈھال کر تاریخ کے اوراق میں رقم کرتا ہے۔ لہٰذا وہ علم جو خلوص و محبت کو اجاگر کرے وہی اس معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ بصورت ِدیگر ظلم و ستم کی داستاں بن کر عبرت کا درس دیتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی تعلیم کہاں سے حاصل کی جائے جو اس جہاں میں ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کا باعث بھی ہو اور اُخروی جہاں کے لیے بھی فائدہ مند ہو، تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ اصحاب ِ رسولؐ پاک کی طرف رجوع کیا جائے کہ انہوں نے حُسنِ اعمال اور حُسنِ اخلاق کی کونسی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا؟ دورِ جہالت میں عرب معاشرے کے حالات ،کردار اور مزاج دورِ حاضر سے بھی بد تر تھے۔ وہ کونسا مدرسہ تھا جس نے رنگ، نسل، زبان، ذات پات اور طبقات کے فرق کو مٹاکر یکجا کردیا۔ اس دور میں نہ تو کتابوں کی لائبریریاں تھیں، نہ کمپیوٹر، نہ انٹرنیٹ، نہ ٹیلیویژن اور نہ ہی کوئی اور مو ٔثر ذرائع ابلاغ تھے۔ بس ایک وجود کا ظاہر موجود تھاجس نے ذات ِ احد کے پیغامِ توحید کو پھیلا کر وحدت واتحاد پر مشتمل معاشرہ تشکیل دیا۔جس نے دنیا و آخرت کے تمام اصول تعلیم فرما دیے۔ صحابہ کو اپنے فیض صحبت سے علم و حکمت کا ایسا امین بنایا کہ ان کے سینوں کو معرفت ِ حق کی روشنی سے منوّر کردیا ۔ اور پھر یہ روشنی اصحاب ِ رسول پاک کے ذریعے دنیا کے ہر خطے میں پہنچی۔ اپنی گفتگو کو نتیجے پر پہنچانے سے پہلے ضروری ہے کہ علم کی معنوی تعریف پر بھی نظر ڈال لی جائے۔

اہلِ دانش و فن کے درمیان علم کی تعریف کے بارے میں خاصا فکری و نظریاتی اختلاف ہے۔ بعض نے اسے فقط درایت(Knowledge)سے تعبیر کیا، بعض کے نزدیک علم ادراک (Perception)ہے تو کسی نیعلم کو تصور(Conception) جانا، بعض کی رائے میں علم مشاہدہ(Vision) ہے، کسی نے کہاعقل(Intellect) درحقیقت علم ہے، فلسفیوں نے کہا اجسام اور اجسام کے افعال و واقعات کے دلائل کا نام علم ہے، ادیبوں کی نظر میں تخیلات و تصورات کی لفظوں میں منظر کشی علم ہے،اہل فقہ کے نزدیک مذہبی معاملات کی حدود و شرائط اور حلّت و حرمت کی تحقیق علم ہے ۔ ان تمام افراد کی آراء اپنی اپنی جگہ قابل احترام ہیں مگر قابل غور بات یہ ہے کہ جس نے جس فن میں مہارت حاصل کرلی اس نے اسی کو کُل جانا۔ ان تمام گوشوں سے انسان مختلف شعبوں کی جزئیات تو جان سکتا ہے مگر منزلِ مقصود کو پہچان نہیں سکتا۔

در اصل مذکورہ تمام گوشے علم کے مترادفات (Synonymous)ہیں ، جبکہ علم بذاتِ خود ایک ایسی حقیقت ہے جس نے انسان کو دیگر مخلوقات سے اشرف کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو تمام اشیاء کے اسماء سکھائے اور پھر حضرت آدم نے پوچھے جانے پر فرشتوں کے سامنے تمام اشیاء کے نام بتادیے۔ مگر یہاں پھر ایک تشنگی رہ جاتی ہے کہ جب تخلیقِ آدم کے وقت فرشتوں نے اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں عرض کیا تھا کہ یہ حضرت ِ انسان زمین پر فساد بپا کرے گا تو اس وقت اللہ پاک نے فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے، یعنی وجودِ انسان میں اللہ نے ایک خاص راز پوشیدہ رکھا جس کا علم اپنے پاس رکھا اور وہ علم انسان کو عطا کرکے تمام مخلوقات سے اعلیٰ شرف عطا کیا اور پھر انسان پر نسیاں اور غفلت کے پردے ڈال کار اسفل السافلین کی پستی میں اتاردیا۔ لہٰذا پتہ یہ چلا کہ علم در حقیقت ایک راز ہے جسے اللہ نے انسان میں پوشیدہ رکھ کر مقامِ ادنیٰ یعنی دنیا میں بھیجا پھر اس علم یعنی راز کی کھوج کی رہنمائی کے لیے انبیاء اور رُسول بھیجے ، تو جو جو بھولے سبق کو یاد کرتا گیا اور اپنی خودی کو پاتا گیا ،وہ فلاح پا گیا، وہ ہدایت یافتہ اور انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہوگیا ، علم کو جان کر حق کو پہچان لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کو کیسے پہچانا جائے؟ کیا قرآن کا لفظی ترجمہ، عربی گرامر یا دیگر فنون کی کتب اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں؟ تو آئیے قرآن سے ہی پوچھتے ہیں کہ نبی ٔ اکرم نے صحابہ کو کیا تعلیم دی جس کے سبب وہ تاریخ کے آسمان کے تابندہ ستارے بنے،

قرآن میں اللہ پاک نے اس تعلیم کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: لَقَدْمَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ اِذْ بَعْثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاًمِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃ ج ( سورۃ آلِ عمران: آیت۱۶۴)’’بیشک اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول ؐ بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا اور ان کا تزکیہ (یعنی پاک)کرتاہے۔ اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ اللہ پاک کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ علم و حکمت کے حصول کے لیے دو چیزیں لازم ہیں، ایک قرآن کا پڑھنا اور سمجھنا اور دوسرا تزکیۂ نفس۔ یہ دونوں چیزیں کسی راہنما کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں، کوئی بھی شخص استاد کے بغیر نہ تلاوت کے قواعد سیکھ سکتا ہے نہ قرآن کے احکامات و تشبیہات کے رموز جان سکتا ہے اور نہ ہی خود اپنا تزکیہ کر سکتا ہے۔ تفہیمِ قرآن کے لیے تو محدود سطح تک انسان ترجمہ و تفسیر کی کتب سے مدد لے سکتا ہے مگر تزکیہ نہ تو کسی کتاب کے مطالعے سے ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے تئیں کوئی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔

تزکیہ حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ریاضت اور دوسرا مجاہدہ، یہ دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور لازم و ملزوم ہیں۔ صحابہ کرام تو وہ خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ کے محبوب کی صحبتیں میسر تھیں، جن کی تربیت خود سرکارِ دو عالم نے فرمائی، مگر آج کے دور میں ہم کس پر اعتماد کریں۔ ہادی ٔ عالم کی طرف توجہ کرتے ہیں تو یہ حدیث ِ صحیح رہنمائی کرتی ہے:’’حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔ اکرم نے فرمایا :میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت یعنی اہلبیت اور یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں پہنچ جاتے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ ؓ، باب: من فضائل علی بن ابی طالبؓ ۳/۱۸۷۳، مسند احمد بن حنبل ۵/۱۸۱)۔

قرآن و حدیث سے معلوم ہوا کہ علم ایک مخفی حقیقت ہے جس کو اللہ پاک نے وجود ِ انسان کے جوہر میں رکھا۔ اور پھر اس جوہر کے نور کی روشنی پر غفلتوں کے پردے ڈال دیے اور ان پر نفس اور شیطان کو مسلّط کردیا، اس نورِ حق کی معرفت کے لیے پیغمبر اور رُسل بھیجے۔ ان پر صحیفے اور کتابیں اتاریں، ان کی تلاوت ، ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے تزکیۂ نفس کا راستہ بتایا اورنفس کی کثافتوں اور شیطان کی شرارتوں سے تصفیہ کی خاطر انبیاء و رُسل کی صحبتیں عطا کیں۔ نبی ٔ آخر الزمان کے بعد آپ کے عترتِ مطہرہ سے اولیاء و صالحین سے تعلق قائم کر کے ان کی صحبتیں اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔ کیوں کہ سرکارِ دو عالم ؐپر دین مکمل کرنے کے بعد دین متین کی اپنی اصلی حالت مکمل حفاظت ضروری تھی لہٰذا اللہ نے علم معرفت و حقیقت اپنے با وفا دوستوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا، جنہوں نے اس امانت کو اہل لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ہونے کے مقصد کی جستجو لے کر ان اولیاء اللہ کی صحبتیں تلاش کریں جو علم حق کے حقیقی وارث ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مقصدِ حیات کو جاننے اور پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *