Sardar Zubair

چوہوں نے مل کر سوچا یہ

Political

جموریت جموریت کا راگ الاپنے والے شدید ذہنی دباؤ کا شکار نظر آ رہے ہیں ، مفاہمت کے بادشاہ کا حالیہ بیان کہ اپوزیشن کو متفقہ طور پر قرارداد لانی چاہیے کہ یہ حکومت مزید نہیں چل سکتی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تمام وہ لوگ جنوں نے اس ملک کے وسائل کو نوچا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے احتساب کے عمل سے خوفزدہ ہیں اورکسی ایسی صورت حال کے متلاشی ہیں جہاں سے انکی لوٹ مار کو بچایا جا سکے مولانا صاحب اس پرشان الیون کے کپتان اور زرداری کوچ ہیں ، گزشتہ پانچ سالوں میں یہی پارٹیاں جموریت جموریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتی تھی کیوں کے تب انکی لوٹ مار کو کوئی خطرہ نہیں تھا.’ جب کبھی بھی احتساب کے عمل نے زور پکڑا تب تب جموریت کو خطرہ محسوس ہوا موجودہ سرکار کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسلہ کمزور معیشت کا ہے ، خزانہ خالی ہے اور ائی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اس ساری صورت حال کو مدے نظر رکتھے ہوے مخالفین کا خیال تھا کہ حکومت شاید احتساب کے عمل کو موخر کر دے گی یا کم از کم یہ عمل سست روی کا شکار ہو جائے گا مگر حکومت اسکے برعکس سوچ رہی ہے کیوں کہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے احتساب بلا تفریق کرنے کا وعدہ کیا تھا وزیر اعظم عمران خان کمزور معیشت کو سنھبالا دینے کے لیے اپنی پوری توانائی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور آج کا سعودی عرب کا دورہ اسی باگ ڈور کا حصّہ ہے ، عمران خان چاہتے ہیں کہ دوست ممالک اگر پاکستان کی مالی مدد کریں تو پاکستان اس بحران سے نکل سکتا ہے اور اگر پاکستان کو ابتدائی ١٢٠٠ عرب روپے مل جاتے ہیں اور پاکستان ائی ایم ایف کے پاس جانے سے بچ جاتا ہے تو موجودہ حکومت کو دو فوائد ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان اس بحران سے نکل سکتا ہے اور دوسرا احتساب کا عمل چلتا رہے گا جہاں تک چوہوں کے بلی کو دھوکا دینے کی بات ہے کہ اسمبلی میں قرارداد لائی جائے وہ ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے اور عوام کسی ایسی تحریک کو سپورٹ نہیں کریں گے جس سے موجودہ حکومت کے کیے دیواریں کھڑی کی جا سکیں اور جموریت ڈی ریل ہو.

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *