baba haider zaman

بابا حیدر زمان (مرحوم) کی سیاسی زندگی پہ ایک نظر

Political

سن 1936 کو ہزارہ کی سر زمین (دیوال منال) میں آنکھ کھولنے والے سپوت ہزارہ، قوم سردار کڑلال قبیلے کے سربراہ بابا حیدر زمان (مرحوم) 82 سال کی عمر میں علالت کے بعد اس جہان فانی سے رحلت فرما چکے ہیں (اناللہ وانا علیہ راجعون) ان کی ناگہانی موت نے عوام کے دلوں کو افسردہ کر دیا ہے لیکن اٹل حقیت کو تسلیم کرنا ہی مومن کا خدائے بلند و برتر پر یقین محکم کی نشانی ہے۔ بابا حیدر زمان جہد مسلسل کا نام تھا،عوام کے حقوق کا بوجھ ہر دم اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہوئے سیاسی و سماجی سرگرمیامیوں کو علالت کے باوجود بھی جاری رکھا اور کسی نہ کسی حوالے سے جدوجہد میں مصروف نظر آتے رہے، کینہ و بغض سے نفرت کرتے تھے جو دل میں آتا تھا وہی زبان پر لے آتے، حثیت ہونے کے باوجود بھی کبھی اپنی ذات کو قومی و عوامی مفاد پر ترجیح نہیں دی بطور ضلع ناظم ایبٹ آباد مراعات سے انکار کر کے سادگی کی اعلی مثال قائم کی ،قومی خزانے و املاک کو قوم کی امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کی،حقیقی معنوں میں کسی گھر کےسرپرست کے و اس کی املاک کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کیا جس کا ضائع ہونے والا ایک پیسہ بھی خاندان کے سرپرست کو اذیت دیتا ہے خداداد قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اس شخص نے اپنی عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا ۔ ہزارہ کی سر زمین کا بچہ بچہ بابا حیدر زمان کی ہزارہ کی عوام کے لیے جدوجہد پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بہترین قائد کے طور پر یاد رکھے گا،بلکہ ہزارہ ڈویژن کی تاریخ جب بھی دھرائی جائے گی تو بابا سردار حیدر زمان (مرحوم )کو ہزارہ ڈویژن کی عوام کے قائد کے طورپر یاد کیا جائے گا،
بابا حیدر زمان (مرحوم)نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز 1960 میں کیا جس کے بعد 1962 میں باقاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لیا جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے،1977 میں بحالی جمعوریت کی تحریک میں قید و بند کی صحوبتیں بھی برداشت کرنا پڑھیں، انہوں نے پہلی مرتبہ انتخابات میں کامیابی 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخابات میں حاصل کی جب وہ ایبٹ آباد سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد میں وہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد ارباب جہانگیر خان کی کابینہ میں محکمہ محنت و افرادی قوت کی وزیر بنے۔ 1985ء کی سرحد اسمبلی میں سردار حیدر زمان عمر کے لحاظ سے سب سے بڑے تھے؛ اسی وجہ سے انہوں اس اسمبلی کے تمام اراکین سے حلف بھی لیا اور اسی دن سے وہ بابا کے نام سے مشہور بھی ہوگئے دو مرتبہ ایبٹ آباد سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے زیادہ تر انتخابات آزاد حیثیت میں لڑے۔ تاہم وہ پاکستان مسلم لیگ جونیجو اور قاف لیگ میں بھی رہے۔ انہوں نے دو مرتبہ 1990 اور 1993 میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے مقابلے میں انتخاب میں حصہ لیا، ایک مرتبہ ضلع کے چیئرمین اور ایک مرتبہ ضلع ناظم ایبٹ آباد رہے جس کے بعد کچھ وقت کے لیے انھوں نے سیاسی سرگرمیوں کو کم کر کے سماجی طور پر فعال رہے لیکن صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھے جانے سے ہزارہ ڈویژن میں جو ردعمل سامنے آیا اور بعد میں اس ردعمل نے جب ایک تحریک کی شکل اختیار کی تواس تحریک نے انھیں دوبارہ میدان میں آنے پر مجبور کردیا وہ ہزارہ ڈیژون کو ایک الگ صوبہ بنانے کے پرزور داعی تھے۔بابا حیدر زمان نے پاکستان کے طول و عرض میں اس وقت شہرت حاصل کی جب صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت بننے کے بعد صوبہ کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کی تجویز پر بابا حیدر زمان نے ہزارہ کی عوام کے تحفظات کو اجاگر کرنے کے لیے آواز بلند کی جس پر لبیک کہتے ہوئے ہزارہ ڈویژن کی تمام سیاسی قیادت اور عوام نے بھر پور ساتھ دیتے ہوئے صوبہ کا نام ہزارہ پختونخواہ رکھنے کے لیے جد و جہد کا آغاز کیا جس کی قیادت بابا حیدر زمان کر رہے تھے، ہزارہ ڈویژن میں پرامن احتجاج و ہڑتالوں کا سلسہ دن بدن زور پکڑ رہا تھا جس سے نمٹنے کے لیے اس وقت کی صوبہ حکومت کی طرف سے 12 اپریل 2010 کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والےنہتے مظاہرین پربدترین تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں نہتے مظاہرین زخمی و سات شہید ہوئے جس کے بعد پر امن مظاہروں نے الگ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی اور بابا حیدر زمان پورے پاکستان میں قائد صوبہ ہزارہ کے نام سے پہچانے جانے لگے،صوبہ ہزارہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کے طور پر انھوں نے تحریک کے دوران سول نافرمانی کا اعلان کیا جو بعد میں حکومتی مذاکرات میں پیش رفت کی وجہ سے موخرکیا گیا۔قائد صوبہ ہزارہ بابا حیدرزمان اس تحریک کی بڑی وجہ ہزارہ کی کی محرومیوں اور ہزارہ ڈویژن کے وسائل کو صوبے کے دیگر اضلاع پر خرچ کرنے کو قرار دیتے تھے جس کے جواب میں حکومتی سر مہری انھیں سخت اذیت میں مبتلا رکھے ہوئے تھی جس کو وہ عمومی طور پرہزارہ کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیتے تھے مرحوم بابا حیدر زمان نے اپنی زندگی کا آخری الیکشن 2013 میں قومی اسمبلی حلقہ این اے اٹھارہ سے لڑا جس کے بعد قوت مدافعت کمزور پڑھ جانے کے بعد اپنی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو محدود کر دیا،کچھ عرصہ سے شدید علالت کے باعث زیر علاج تھے جس کے بعد اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں انتقال کر گئے ،اللہ پاک ان کے درجات کو بلند فرمائیں امین

 

1 thought on “بابا حیدر زمان (مرحوم) کی سیاسی زندگی پہ ایک نظر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *