Sardar Zubair

آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟

Political

٢٠١٥ میں پو ریسرچ سینٹر کے سروے رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا میں ٥٠ سے زیادہ مسلمان ممالک ہیں اور پوری دنیا کی آبادی کا ٢٢% ہیں ان بڑے ممالک میں انڈونیشیا ، بنگلہ دیش ، پاکستان ، ایران اور سعودیہ قابل ذکر ہیں ان سارے ممالک میں کہیں بھی مکمل اسلامی نظام موجود نہیں ہے ، کہنے کو سعودیہ میں اسلامی نظام رائج تو ہے مگر آپ اسے بھی مکمل اسلامی نظام نہیں کہ سکتے کیوں کہ کہیں نہ کہیں آپ کو مَفاہمَت نظر آئیں گی سعودیہ میں تو اظہار رائے پہ مکمل یا جزوی پابندی ہے اورآپ کو کہیں بھی کھلے عام حکومت کے خلاف نشریات نہیں ملے گی ، اسکی تازہ مثال جمال خشوگی کے قتل کا واقعہ بھی ہے پاکستان میں اظہار رائے کی کھلی چھٹی ہے ، سوشل میڈیا فیض آباد کے پل کی مانند ہو گیا ہے جو جس کے دل میں آتا ہے لکھ دیتا ہے اور بلا تحقیق کے اسے نہ صرف لائک کیا جاتا ہے بلکہ اسکی مزید تشہیر بھی کی جاتی ہے ، پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو سوشل میڈیا پر لکھی ہر بات کو من و عن درست تسلیم کر لیتے ہیں کیوں کہ یا تو وہ پڑے لکھے نہیں ہوتے یا پھر اس مواد کے اندر انکی ذاتی دلچپسی کا عنصر کار فرما ہوتا ہے ٢٠١٦ میں پاکستان میں سائبر جرم لاء پاس ہوا جس میں گمراہ کن نشریات اور اسکی تشہیر پر سزا کا فیصلہ کیا گیا مگر وہ قانون عملی طور پر نافذ ہوتا ہوا نظر نہیں آیا کم پڑا لکھا طبقہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو کو ہوا دے رہا ہے لوگوں کے اندر نفرت کا زہر اور کشیدگی کو فروغ دے رہا ہے اور ذاتی دلچپسی کی چیزوں کو عوام کی رائے بنا کر پیش کر رہا ہے ، حالیہ حکومت عدلیہ مخالف دھرنوں میں بہت سارے ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس منظر عام پرلانے کا انکشاف ہوا ہے جن کا تعلق بل واسطہ یا بلا واسطہ بیرونی قوتوں سے ہے ، یہ قوتیں نہ صرف پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دے دینے میں مصروف عمل ہیں پاکستان ایک عجیب تماش بین ملک بن گیا ہے جب جس کا دل کرتا ہے بیچ سڑک کے ڈیرہ ڈال کے بیٹھ جاتا ہے اور ہجوم اکھٹا کرنا تو یہاں کوئی مسلہ ہی نہیں ہے، یہاں بندر نچانے والا بھی سو پچاس بندا اکھٹا کر لیتا ہے سرکار کو اب ذرا سنجیدہ ہونا ہو گا کیوں کہ اب ایسا نہیں چلے گا ، ان تماش بین عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی، ورنہ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پروان چڑ رہا ہے جو ریاست اور مذہب دونوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیوں کہ من پسند دین من پسند نظام اور ذاتی دلچپسی پہ بنا قانون ہی اگر قابل قبول ہے تو ایسے نہیں چلے گا ، ریاست کو اپنی رٹ دکھانی ہو گی اور قانون پر عمل داری کو یقینی بنانا ہو گا ورنہ نہ جانے کوئی کب کہاں کسی کو کافر کا فتویٰ لگا کر قتل کر دے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *