Sardar Zubair

چاچے قادرے کی ہٹی

Political

کہتے ہیں کسی شخص کو ایک عمارت کی پچیسویں منزل پر ایک آدمی ملا اور اس سے بولا سر آپ کی زوجہ محترمہ رضاے الہی سے وفات پا چکی ہیں ، اس شخص نے یہ سنتے ہی عمارت کی با لائی منزل سے چھلانگ لگا دی اور مھجزانہ طور پر بچ بھی گیا ، نیچے گرتے ہی اسے خیال آیا کہ یار میری تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی ہے تو زوجہ محترمہ کیسی ؟ یہی حالات آج کل سوشل میڈیا استعمال کرنے والے خواتین و حضرات کے ہیں، پوری دنیا اس موزی مرض کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے لیکن اپنا سوھنا دیس ، اس دیس کی گلیاں ، اس دیس کے کوچے ، نام نہاد سکالرز ، مفتی ، ادیب، شاعر، سیاسی تجزیہ نگاروں سے بھرے پڑے ہیں، آپ کو ایسی ایسی خبریں دیکھنے، سننے اور پڑنے کو ملیں گی جو ابھی تک محرض وجود میں بھی نہیں آئی ہوں گی اور اس خبر کے پھیلانے والے اس غیر مستند ، غیر میعاری خبر کو ایسے پھیلاتے ہیں جیسے یہ بات ان کے رو برو ہوئی ہے اور شاید انکے پاس اس خبر کے تحریری یا تصویری ثبوت بھی موجود ہیں ( الله و اکبر ) سوشل میڈیا تو درکنار ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس بیماری کا بری طرح شکار ہوتا نظر آ رہا ہے، رشوت ، سفارش کے جس بازار میں صحافت بک رہی ہے اس کے لیے خبر کا ہونا ضروری ہے نہ کہ مستند خبر کا ، حال ہی میں ایک من گھڑت خبر پاکستان کے سارے میڈیا چینلز پر چلی اور فقیر کی آواز کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی کہ اسرائیل کا ایک طیارہ پاکستان کی سرحدی حدود کو پار کر کے اسلام آباد میں داخل ہوا ہے ، غیر ذمداری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اپنے ہی ملک کا میڈیا اور سوشل میڈیا کے ارسطو ایک چار لائن کی ٹویٹ کو خبر کا ماخذ مان کر توحید کی طرح ایمان لے آئے حالانکہ بعد میں وہ خبر کا اصل کردار بھی مکر گیا، وطن عزیز کا ہر چوتھا شہری سوشل میڈیا کی خبر کو درست اور اخلاقی فرض سمج کر اسکی ایسی تشہیر کرتا ہے جیسے اسپے اسکا کمیشن ہے. ایسے ایسے پڑے لکھے لوگ آپ کو ملیں گۓ جو غلط خبر کو ایسے بیان کریں گۓ جیسے یہ بات تو انکے رو برو ہوئی ہے ، بلا کا کانفیڈنس دیکھ کر بحض اوقات سننے والا بھی حیران ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ سچ ہی نہ کہ رہا ہو ، پوچھو کہ یہ بات کس نے بتائی ہے تو کہیں گۓ وہ بھٹی مارکیٹ میں چاچے قادرے کی ہٹی پر بات ہو رہی تھی ، مطلب چاچے قادرے کی ہٹی خبر کا ماخذ . قران پاک کی ایک آیات کا مہفوم ہے کہ جب تمارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اسکی مکمل تحقیق کر لیا کرو مگر مجاز ہے کوئی اتنی تکلیف کرئے. کانوں کا کچا انسان جب چھلانگ مار کر اپنی ہڈی پسلی ایک کر لیتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ موصوف شادی شدھ ہی نہیں ہیں

 

1 thought on “چاچے قادرے کی ہٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *