Sardar Zubair

میری طرف دیکھیں جناب

Political

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اتراؤ چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ، ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کسی بھی دور میں یہ تعلقات بہترین رہے ہوں امریکا میں جو بھی پارٹی برسرے اقتدار آتی ہے اسکی پالیسی پچھلی حکومتی پالیسی کا تسلسل ہوتی ہے اور خارجہ پالیسی تو جوں کی توں ہی رہتی ہے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو اکثر دل جلے عاشقوں کے رشتے سے تشبیہ دی جاتی ہے جن کی محبت نہ اگلتے بنے نہ نگلتے بنے یہ دونوں ممالک نہ کھل کر اظھار محبت کر سکتے ہیں نہ انکار کی گنجائش ہے مگر حال ہی میں دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کی شدت اس قدر شدید تھی کہ ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی، گھریلو لڑائی کے اس کھیل میں طلاق کی تو کہیں گنجائش نہیں ہے مگر گھر بستہ بھی نظر نہیں آ رہا، حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ بات دو طلاقوں تک پہنچ سکتی ہے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات صرف اپنے وفاداروں اور حمایتیوں کو خوش کرنے کے لیے دیے گئے ہیں، پاکستان تو شاید امریکہ کے بارے میں روزانہ سوچتا ہو مگر امریکہ پاکستان کے بارے میں شاید سال میں ایک دو دفعہ سے زیادہ نہ سوچتا ہو، اور ٹرمپ تو شاید بلکل بھی نہ سوچتا ہو، ویسے بیوقوفی کے جس درجے پر وہ فائز ہے سوچنا بنتا بھی نہیں اسکا بہر حال پاکستان کا امریکہ کو جواب پاکستان میں ایک خبر ہے بلکہ بہت بڑی خبر ہے مگر امریکہ میں شاید یہ کوئی خبر نہ ہو، کیوں کہ وہاں اس سے زیادہ سنجیدہ معاملات زیر بحث ہیں مشلاً جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ لیکن پاکستان کی سول اور فوجی قیادت شاید اب یہ بات سوچنا اور سمجنا شروع ہو گئی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ جو ہر وقت ڈو مور کی گردان پڑتا رہتا ہے اس کا جواب اب بلکل سیدھا سیدھا بلکہ تیر کی طرح سیدھا دینا چاہیے. پاکستان جوں جوں چین، روس اور دیگر اسلامی ممالک کے قریب ہوتا جا رہا ہے امریکہ کو خطرہ محسوس ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ افغانستان کے دیر پا امن کے لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہو گا اور پاکستان کی مہاونت کے بغیر افغانستان میں امن ناممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی بدقسمتی یہ کہ کہ اب پاکستان میں ایک نڈر اور بیباک قیادت ہے اور اس ٹویٹر وار کو ہینڈل کرنا بھی جانتی ہے اب جیسے جیسے امریکا کے انتخابات قریب آتے جائیں گے ایسی مزے مزے کی ٹویٹس ہمیں دیکھنے کو ملتی رہیں گی جن کو صرف آپ انجوے کریں گے نہ کہ سنجیدہ لیں گے….. جاری

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *