Sardar Zubair

پیدائشی مایوس

Political

جرنل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں ختم کی حلیم کی طرح میڈیا لائسنس بانٹے گئے ، اس وقت شیخ رشید صاحب وزیر اطلاعات ہوا کرتے تھے جب چینلز کا لنڈا بازار گرم ہوا تو اس بہتی گنگا میں کئی نام نہاد صحافیوں کو ہاتھ دھونے کا نادر موقع نصیب ہوا آج لگ بھگ ١٠٠ کے قریب چینلز کام کر رہے ہیں جن میں اسلامی، نیوز ، ہیلتھ، سپپورٹس اور فوڈز کے چینلز ہیں. اب اتنے سارے چینلز کے لیے یقینا کوئی خاص مہیار اپنانا مشکل کام ہے، آسان طریقہ تو یہی ہے کہ جان پیچاں کے لوگوں کو لگا دیا جائے بہت سارے صحافی حضرات کا جرنلزم سے دور دور تک کوئی تحلق نہیں ہے، مثال کے طور پر شاہد مسود، منیب فاروق ، عامر لیاقت اور اس طرح کے اور بیشمار ہیں اسی طرح روف کلاسرا صاحب نے انگلش لٹریچر میں ڈگری کی ہے ( یہ میرا اپنی ریسرچ ہے ) لیکن کلاسرا صاحب کا کوئی بھی پروگرام اٹھا کے دیکھ لیں موصوف کو سن کے ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے سیاسیات میں ماسٹر، قانون میں ایل ایل ایم، ہسٹری میں پی ایچ ڈی، اسلام میں ریسرچ پے الگ پی ایچ ڈی اور اخلاقیات میں ایم فل کر رکھا ہے. شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جس کے بارے میں وہ علم نہ رکتھے ہوں ، موصوف تو وزیر اعظم صاحب کو بھی ڈانٹ پلا آئے ہیں تازہ تازہ انکا ہر پروگرام دیکنھے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے سارے سیاستدان بے ایمان ہیں، سارے افسر بددیانت ہیں، سارے عالم جھوٹے ہیں اور یہ کہ سارا میڈیا بھی بکاؤ ہے سوا انکے اور سارے پروگرام جھوٹ پے مبنی ہیں سوا انکے اپنے پروگرام کے، کسی پروگرام میں اگر موصوف کو مہمان کے طور پر بھی بلا لیا جائے تو ایسا بولتے ہیں کہ میزبان بیچارہ خود منہ دیکھتا رہ جاتا ہے انکے پروگرام میں سوا مایوسی کے آپکو کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملے گا ، دو سو روپے کے پروجیکٹ سے کیسے دو سو ارب کا گھپلا ثابت کرنا ہے انکے بائیں ہاتھ کا کام ہے
انکے خیال میں پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ اس وقت لیہ کی سڑک کا ہے جو کچی تو ہے ہی ساتھ میں دشوار گزار بھی ہے لہٰذا کوئی حکومت اس وقت تک موثر یا فحال نہیں ہو سکتی جب تک انکے گاؤں کی سڑک پکّی نہ ہو جائے ذہنی پسماندگی ، چھوٹی سوچ اور تنقید براے تنقید کا عامل یہ شخص اپنے ایک گھنٹے کے پروگرام میں آپکو اتنا مایوس کر جائے گا کہ اپ کو اپنے ہی بیالیس انچ ٹی وی سے نفرت ہونا شروع ہو جائے گی ، مجھے لگتا ہے یہ بھائی جان پیداشی مایوس ہیں

تحریر سردار زبیر 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *