City Hospital Wah Cantt

خطرناک کون کورونا یا ہسپتال

General Urdu

City Hospital Wah Cantt

ایک طرف کورونا کے وار جاری ہيں اور دوسری طرف ہسپتال انتظاميہ والوں کے یہ دونوں ہی خطرناک اور جان لیوا ہيں۔ ان دونوں سے بچانا مکمن نھیں۔ ایک طرف کورونا ہميں کھا رھا ہے اور دوسری طرف ہسپتال انتظاميہ والے ہميں لوٹ رھے ہيں۔ ہسپتال انتظامیہ کے اس تکیف دا راویے اور پیسے کی ہوس سے بچانا بہت مشکل ہے۔ اگرايک طرف کورونا سے بچ بھی جاے تودوسری طرف ہسپتال انتظاميہ والے مار ديتے ہميں۔

ہمارے گھر ميں تين افراد کورونا کا شکار ہو گئے تھے۔ جس ڈاکڑ سے ہم نے روجوع کيا تھا وہ شام کے وقت سٹی ہسپتال بھی آتا ھے۔ ڈاکڑ نے کچھ ادويات اور انجکشن لکھ کر ديئے تھے جو انجکشن لکھ کر ديئے تھے وہ صبع شام لگنا تھے۔ ڈاکڑ کی وجہ سے ہم نے انجکشن لگوانے کے ليے سٹی ہسپتال کا ہی انتخاب کيا۔

جب ميں انجکشن لگوانےسٹی ہسپتال گياتو اُس وقت ميرے بھائی کی حالت زيادہ خراب تھی۔ تو جب سٹی ھسپتال کی انتظاميہ نے يہ سارے حالات ديکھے تو اُنہوں نے سوچا کہ يہی اچھا موقع ھے اس سے فاہدہ اُٹھايا جائے۔ اُنہوں نے مجہے اُسی وقت آفر کر دی کہ ہمارے پاس ايک کمرہ خالی ہے جس کا ايک دن کا کرايہ دس ہزار روپے ہے آپ آپنے بھائی کو ابھی داخل کروا دو ورنہ اس کی حالت زيادہ خراب ہو جائے گی جبکہ ڈاکڑ نےداخل ہونے کا بولا ہی نہيں تھا۔ جب تک ميں ہسپتال ميں رہا وہ مجہے بار بار يہی کہتے رہے۔

کچھ دن کے بعد ميری والدہ کو آکسيجن کی کمی کا مسئلہ شروع ہوا۔ ڈاکڑ نے والدہ کو ہسپتال ميں داخل کروانےاور تين دن تک مسلسل آکسيجن دينے کا کہا۔ جب ہم سٹی ہسپتال کمرہ بک کروانے گئے تو سٹی ہسپتال انتظاميہ نےيہ ديکھ کر ہميں انکار کر ديا کہ ہم وہ کمرہ اور سارا علاج پينل پہ کروانا چھ رہے تھےاور کہا کہ اس وقت کوئی بھی کمرہ ميہسر نہيں ہے۔ ايک بڑی لمبی بحث کے بعد ہميں کمرہ مل گيا۔ سٹی ہسپتال انتظاميہ اپنے اس جھوٹ پہ شرمندہ بھی نہيں ہوئی۔

پينل پہ انکار کرنے کا مقصد صرف يہ تھا کہ پينل پہ يہ مريض کو إتنا لوٹ نہيں سکتے جتنا بغير پينل کے۔

جب ميری والدہ کو آکسيجن ملنا شروع ہوئی تو اُن کی طبيعت ميں کافی بہتری آنا شروع ہو گئی تھی۔ ابھی والدہ کو ہسپتال ميں داخل ہوئے پورا ايک دن نہيں گزرا کہ ہسپتال انتظاميہ نےتنگ کرنا شروع کر ديا اور جھوٹ بولا کہ مريض کی حالت بہت خراب ہوتی جا رہی ہے ان کو ابھی کسی دوسرے ہسپتال شفٹ کر دے جہاں وينٹی ليڑ کی سہولت موجود ہو۔ ہم نے ايسا نہيں کيا۔

ابھی کچھ ہی دن گزرئےتھے کہ ہسپتال انتظاميہ نےايک نيا ڈرامہ شروع کر ديا اور بولا کہ پينل کی جو حد تھی وہ ختم ہو چکی ہے اور ساتھ يہ بھی کہا کہ بل اُس حد سے بھی تجاوز کر چکاہےاور جو زاہد رقم ہے وہ ابھی جمع کروا دو۔ ہم نے ہسپتال انتظاميہ سے بلوں کی تفصيلات مانگی ليکن اُنہوں نے نہيں دی اور دھمکی دی کہ اگر رقم ادا نہيں کی تو ہم اُس کمرے کی آکسيجن بند کر ديے گئے۔ صرف پانچ دن والدہ داخل رہی۔

ايک طرف کورونا اور دوسری طرف ہسپتال والوں کے ايسے روايے سے تنگ آ کر ہم نے يہی فاصلہ کيا کہ والدہ کو واپس گھر لے جايا جاے اور گھر پر ہی آکسيجن کا انتظام کيا جائے اور ويسے بھی والدہ کی طبيعت کافی بہتر ہو گئی تھی۔ ڈاکڑ نے يہی کہا تھا کہ آکسيجن سے ميری والدہ کی طبيعت ٹھيک ہو جائے گئی اور ايسا ہی ہوا۔

ہمارے کافی اصرار کرنے پہ بھی ہسپتال انتظاميہ نے ہميں بلوں کی تفصيلات فراہم نہیں کی اور ہميں خوشی خوشی سے رخصت کيا اور اُس زاہد رقم کی ڈيمانڈ بھی نہیں کی۔ ڈاکڑ بھی ہسپتال انتظاميہ کے سامنے بے بس تھا۔

ايسی بہت سی چھوٹھی چھوٹھی باتيں تھی جو کہ ہمارے ساتھ چلتی رہی اور وہ ميں نے يہاں بيان نہيں کی ہر روز ايک نيا ڈرامہ۔ اگر ہم پينل کے بغير علاج کرواتے تو يہ سب کچھ نہ ہوتا اور ہسپتال انتظاميہ کو بھی لوٹنے کا موقع مل جاتا۔

ہميں کافی ساری باتوں کا علم تھا اسی وجہ سے ہم ہسپتال انتظاميہ کی باتوں ميں آ کر کوئی غلط فاصلہ نہيں کياورانہ ہميں جانی نقصان اُٹھانا پڑتا۔ ميرا لکھنے کا مقصد يہ ہے کہ ايسا کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔ ميری سب سے التجا ہے کہ اگر آپ کو اپنے پياروں کی جان عزيز ہے تو وہ آی پی ڈی اور نارمل يہ سی شين ڈليوری کے ليے اس ہسپتال ميں نہ آئے۔

اگر کسی کے ساتھ اس ہسپتال ميں جو بھی کچھ غلط ہوا ہے تو وہ نيچے کومنٹ ميں لازمی منشن کريں۔ شکريہ

 

3 thoughts on “خطرناک کون کورونا یا ہسپتال

  1. We can’t blame the whole doctors community or health team for such corruption. But government should take some initiatives to check such hospitals.

  2. Government did not take any actions against these hospitals. I also make many complaints in Pakistan Citizen Portal but no response from it.

  3. I have 100% agree and I have a experience that this hospital (City Hospital Wah Cantt) is not good for IPD, Emergency, Caesarean section and for normal deliveries. Very bad attitude/behavior for the staff of this hospital.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *